اجمال[1]

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - اختصار، جس کی تفصیل کی جا سکے۔ "تفصیل سے اجمال نکالنا . یا اجمال سے تفصیل پیدا کرنا . دونوں منطق کی شاخیں ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، علم المعیشت، ٢٦ ) ٢ - ابہام، عدم وضاحت۔  اجمال کی پھر بعد کو ہو گی تفصیل گردن تو جھکا دے صورت اسماعیل      ( ١٩٤٠ء، جمال امجد، ٤٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب 'افعال' سے مصدر اور اردو میں حاصل مصدر کے طور پر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٧٢ء کو "انتباہ الطالبین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اختصار، جس کی تفصیل کی جا سکے۔ "تفصیل سے اجمال نکالنا . یا اجمال سے تفصیل پیدا کرنا . دونوں منطق کی شاخیں ہیں۔"      ( ١٩١٧ء، علم المعیشت، ٢٦ )

اصل لفظ: جمل
جنس: مذکر